المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند عتبان بن مالك باب: سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا وَرْدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ لَبِيدٍ الْبَيْرُوتِيِّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، «وَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسِ سِنِينَ وَإِنَّهُ عَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ مِنْ دَلْوٍ مُعَلَّقَةٍ فِي دَرَاهِمْ»
قَالَ: سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ جَعَلَ بَصَرِي يَكِلُّ مِنَ الْأَمْطَارِ إِذَا كَانَتْ، وَيَكُونُ سَيْلُ الْوَادِي الَّذِي بَيْنَ سَكَنِي وَمَسْجِدِ قَوْمِي فَيَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ الصَّلَاةِ، فَلَوَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللهِ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي مُصَلًّى أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» قَالَ: وَغَدَا عَلِيَّ مِنَ الْغَدِ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَأَسْتَأْذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ، فَمَا جَلَسَ حَتَّى قَالَ: «أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟» فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْ بَيْتِي، فَكَبَّرَ، وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَمحمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو ان کی عمر پانچ سال تھی، اور انہیں یاد ہے وہ کلی جو رسول اللہ ﷺ نے ان کے گھر کے کنویں سے نکالے گئے لٹکے ہوئے ڈول کے پانی سے ان کے چہرے پر کی تھی۔
محمود کہتے ہیں: مجھے سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ، جب بارش ہوتی ہے تو میری بینائی کمزور پڑ جاتی ہے، اور وادی کا سیلاب جو میرے گھر اور میری قوم کی مسجد کے درمیان ہے، میرے اور نماز کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، پس یا رسول اللہ، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے پاس آئیں اور میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھ دیں جسے میں جائے نماز بنا لوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ عتبان کہتے ہیں: اگلے دن آپ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے، رسول اللہ ﷺ نے اجازت طلب کی تو میں نے اجازت دی، آپ ﷺ بیٹھے بغیر ہی فرمانے لگے: ”تم اپنے گھر میں کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟“ میں نے اپنے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، تو آپ ﷺ نے تکبیر کہی، ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف باندھی، آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر سلام پھیرا۔