المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند عتبان بن مالك باب: سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، ح، وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ، عَنْ عَقِيلٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ، وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَإِنِّي أُصَلِّي بِقَوْمِي، فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِي مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّي لَهُمْ، فَوَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ تُصَلِّيَ فِي مُصَلًّى أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللهُ» فَقَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ حَيْثُ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، قَالَ: «أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِكَ؟» فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا، فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ ذُو عَدَدٍ، فَقَالَ قَائِلٌ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخَيْشِنِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُلْ ذَلِكَ أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ؟ " قَالَ: اللهُ أَعْلَمُ، إِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنُصْحَتُهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ النَّارَ عَلَى مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ " قَالَ مُحَمَّدٌ: «ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودٍ، فَصَدَّقَهُ»سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … اور میں ان کی مسجد میں جا کر نماز نہیں پڑھ سکتا، پس یا رسول اللہ، میں چاہتا ہوں کہ آپ کسی جگہ نماز پڑھ دیں جسے میں جائے نماز بنا لوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ان شاء اللہ ایسا کروں گا۔“ عتبان کہتے ہیں: چنانچہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جب دن چڑھا تو تشریف لائے، رسول اللہ ﷺ نے اجازت طلب کی، میں نے اجازت دی، آپ ﷺ بیٹھے بغیر گھر میں داخل ہوئے، فرمایا: ”تم اپنے گھر میں کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟“ میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، تکبیر کہی، ہم کھڑے ہوئے اور صف باندھی، ہم نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر گھر میں کئی لوگ جمع ہو گئے، ان میں سے کسی نے کہا: مالک بن دخیشن کہاں ہے؟ ان میں سے کسی نے کہا: وہ منافق ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کہو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا ہے اور اس سے اللہ کی رضا چاہتا ہے؟“ اس نے کہا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے، ہم تو اس کا رخ اور خیرخواہی منافقوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے اس شخص کو آگ پر حرام کر دیا ہے جو 'لا الہ الا اللہ' کہے اور اس سے اللہ کی رضا چاہے۔“ محمد کہتے ہیں: پھر میں نے حصین بن محمد سے، جو بنو سالم کے سرداروں میں سے تھے، محمود کی حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔