المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند عتبان بن مالك باب: سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مَحْمُودٍ قَالَ: إِنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ أُصِيبَ بَصَرُهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ فِي مَسْجِدِكِ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ مَعِيَ فِي مَسْجِدِي، فَأَئْتَمَّ بِصَلَاتِكَ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا مَالِكَ بْنَ الدُّخْشُمِ فَقَالُوا: ذَاكَ كَهْفُ الْمُنَافِقِينَ وَمَلْجَؤُهُمُ الَّذِينَ يَلْجَئُونَ إِلَيْهِ وَمَعْقَلُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟» قَالُوا: بَلَى، وَلَا خَيْرَ فِي شَهَادَتِهِ، فَقَالَ: «لَا يَشْهَدُهَا عَبْدٌ صَادِقٌ مِنْ قَلْبِهِ فَيَمُوتُ إِلَّا حَرَّمَهُ اللهُ عَلَى النَّارِ»سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی بینائی رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جاتی رہی، تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے ساتھ آپ کی مسجد میں نماز نہیں پڑھ سکتا، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ میری مسجد میں نماز پڑھیں تاکہ میں آپ کی اقتداء کروں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، پھر (لوگوں نے) رسول اللہ ﷺ کے پاس مالک بن دخشم کا ذکر کیا اور کہا: وہ تو منافقوں کا ٹھکانہ اور پناہ گاہ ہے، جس کی طرف وہ پناہ لیتے ہیں اور جو ان کا گڑھ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، مگر اس کی گواہی میں کوئی خیر نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ دل سے سچائی کے ساتھ یہ گواہی دے اور اسی حال میں فوت ہو جائے، اللہ اسے آگ پر حرام کر دیتا ہے۔“