حدیث نمبر: 15136
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمُ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ لِابْنِهِ أَبِي بَكْرٍ حَدِّثْهُمْ حَدِيثَ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَنَسٌ، شَاهِدٌ فَقَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا أَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ مَشَى مَعَنَا مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ فَشَيَّعَنَا حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُفَارِقَنَا قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثِ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ؟ قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّهُ ذَهَبَ بَصَرُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَلَوْ أَتَيْتَ مَنْزِلِي، فَبَوَّأْتَ لِي فِيهِ مَسْجِدًا، وَصَلَّيْتَ فِيهِ، فَأَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا، وَإِنَّ بَصَرِي قَدْ ذَهَبَ، وَضَعُفْتُ عَنِ الْخُرُوجِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَعَدَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَأْتِيَهُ فِيهِ، فَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ، حَشَكَ لَهُ أَصْحَابَهُ، فَاجْتَمَعُوا فِي مَنْزِلِي، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ أَشَدَّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعْظَمَهُمْ لَهُ عَدَاوَةً، فَرَدُّوا ذَلِكَ إِلَى مَالِكِ بْنِ الدُّخْشُمِ، فَسَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَتَذَاكَرُونَ؟ قَالَ: «أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ صَاحِبُ، قَالَ: «أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ كَانَ يَقُولُهَا صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ لَا تَأْكُلُهُ النَّارُ أَبَدًا» فَقَالَ لِي أَنَسٌ: «احْفَظْ هَذَا الْحَدِيثَ فَإِنَّهُ مِنْ كُنُوزِ الْعِلْمِ» ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ حَيًّا، فَقُلْتُ لِأَبِي: هَلْ لَكَ فِي عِتْبَانَ تَسْأَلُهُ عَنِ الْحَدِيثِ الَّذِي حَدَّثَنَاهُ مَحْمُودٌ عَنْهُ، فَانْطَلَقْنَا فَسَأَلْنَاهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنَا
ترجمہ

… اور جو ان میں اس سے سب سے زیادہ دشمنی رکھتا تھا، انہوں نے یہ بات مالک بن دخشم کی طرف موڑ دی، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا: تم کس بارے میں باتیں کر رہے ہو؟ پھر فرمایا: ”کیا وہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ، وہ منافقوں کا ساتھی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر وہ یہ بات دل سے سچائی کے ساتھ کہتا ہے تو آگ اسے کبھی نہیں کھائے گی۔“ انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: یہ حدیث یاد رکھو، یہ علم کے خزانوں میں سے ہے۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو زندہ پایا، تو میں نے اپنے والد سے کہا: کیا آپ عتبان کے پاس چلیں گے تاکہ ہم ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھیں جو محمود نے ہمیں ان کے بارے میں سنائی تھی؟ چنانچہ ہم گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے ہمیں خود بیان کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15136
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 26، حدیث 45