المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
دخين أبو الهيثم كاتب عقبة، عن عقبة بن عامر باب: دخین، ابوالہیثم، جو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے، کی سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، ثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ نُعَيْمٍ، عَنْ دُخَيْنٍ الْحَجْرِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَمَعَ اللهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ وَقَضَى بَيْنَهُمْ وَفَرَغَ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَهُمْ، قَالَ الْمُؤْمِنُونَ: قَدْ قَضَى بَيْنَنَا رَبُّنَا فَمَنْ يَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّنَا، انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ فَإِنَّهُ أَبُونَا وَخَلَقَهُ اللهُ بِيَدِهِ وَكَلَّمَهُ، فَيَأْتُونَهُ فَيُكَلِّمُوهُ أَنْ يَشْفَعَ لَهُمْ فَيَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِنُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا، فَيَدُلُّهُمْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَدُلُّهُمْ عَلَى مُوسَى، فَيَأْتُونَ مُوسَى، فَيَدُلُّهُمْ عَلَى عِيسَى، ثُمَّ يَأْتُونَ عِيسَى، فَيَقُولُ: أَدُلُّكُمْ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، فَيَأْتُونِي فَيَأْذَنُ اللهُ لِي أَنْ أَقُومَ، فَيَثُورُ مَجْلِسِي مِنْ أَطْيَبِ رِيحٍ شَمَّهَا أَحَدٌ حَتَّى آتِيَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيُشَفِّعَنِي وَيَجْعَلَ لِي نُورًا مِنْ شَعْرِ رَأْسِي إِلَى ظُفْرِ قَدَمِي، ثُمَّ يَقُولُ الْكُفَّارُ: هَذَا قَدْ وَجَدَ الْمُؤْمِنُونُ مَنْ يَشْفَعُ لَهُمْ فَمَنْ يَشْفَعُ لَنَا فَيَقُولُونَ: مَا هُوَ غَيْرَ إِبْلِيسَ هُوَ الَّذِي أَضَلَّنَا فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ: قَدْ وَجَدَ الْمُؤْمِنُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَهُمْ فَقُمْ أَنْتَ فَاشْفَعْ لَنَا فَإِنَّكَ أَنْتَ أَضْلَلْتَنَا فَيَقُومُ فَيَثُورُ مَجْلِسُهُ أَنْتَنَ رِيحٍ شَمَّهَا أَحَدٌ، ثُمَّ يُورِدُهُمْ جَهَنَّمَ وَيَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ، {وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ} [إبراهيم: ٢٢] "سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ اگلوں اور پچھلوں کو جمع کر لے گا اور ان کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو جائے گا، تو مومن کہیں گے: ہمارے رب نے ہمارے درمیان فیصلہ کر دیا، اب ہمارے رب کے ہاں ہماری شفاعت کون کرے گا؟ چلو ہم آدم کے پاس چلیں، وہ ہمارے باپ ہیں اور اللہ نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور ان سے کلام کیا۔ چنانچہ وہ ان کے پاس جا کر ان سے کہیں گے کہ وہ ان کی شفاعت کریں، تو وہ کہیں گے: نوح کے پاس جاؤ۔ وہ نوح کے پاس جائیں گے تو وہ انہیں ابراہیم کی طرف رہنمائی کریں گے، وہ ابراہیم کے پاس جائیں گے تو وہ انہیں موسیٰ کی طرف رہنمائی کریں گے، وہ موسیٰ کے پاس جائیں گے تو وہ انہیں عیسیٰ کی طرف رہنمائی کریں گے، پھر وہ عیسیٰ کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے: میں تمہیں امی نبی کی طرف رہنمائی کرتا ہوں۔ چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے، تو اللہ تعالیٰ مجھے کھڑے ہونے کی اجازت دے گا، اور میری مجلس ایسی خوشبو سے بھر جائے گی جیسی کسی نے کبھی نہیں سونگھی، یہاں تک کہ میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے پاس پہنچوں گا، تو وہ مجھے شفاعت کی اجازت دے گا اور میرے سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک میرے لیے نور بنا دے گا۔ پھر کفار کہیں گے: ان مومنوں کو تو کوئی شفاعت کرنے والا مل گیا، ہمارے لیے کون شفاعت کرے گا؟ تو وہ کہیں گے: ابلیس کے سوا کوئی نہیں، اسی نے تو ہمیں گمراہ کیا تھا۔ چنانچہ وہ اس کے پاس جا کر کہیں گے: مومنوں کو تو کوئی شفاعت کرنے والا مل گیا، اب تم اٹھو اور ہماری شفاعت کرو، کیونکہ تم نے ہی ہمیں گمراہ کیا تھا۔ تو وہ کھڑا ہو گا، اور اس کی مجلس ایسی بدبو سے بھر جائے گی جیسی کسی نے کبھی نہیں سونگھی، پھر وہ انہیں جہنم میں لے جائے گا اور اس وقت کہے گا: ”اور شیطان کہے گا جب معاملہ طے کر دیا جائے گا: بے شک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا پھر تم سے وعدہ خلافی کی“ [ابراہیم: 22]۔“