المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يسير بن عمرو، عن أبي مسعود باب: یسیر بن عمرو کی سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَرِيفٍ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ يَسِيرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْطَلَقَ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى هَذَا الْوَجْهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالسَّيْلَحِينِ نَزَلَ وَنَزَلْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَدْ خَلَا قُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا أَبَا مَسْعُودٍ كَانَ فِينَا ثَلَاثَةٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا حُذَيْفَةُ فَمَاتَ، وَأَمَّا أَبُو مُوسَى فَأَتَى الشَّامَ، وَأَنْتَ قَدْ أَخَذْتَ فِي هَذَا الْوَجْهِ وَوَقَعَ مِنَ الْفِتَنِ مَا تَرَى، فَقَالَ لِي: «يَا يَسِيرُ، إِنِّي لَنَاصِحٌ، الْزَمِ الْجَمَاعَةَ، فَإِنَّ اللهَ لَمْ يَكُنْ لَيَجْمَعَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الضَّلَالَةِ حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ أَوْ يُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِرٍ»یسیر بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ اس سمت روانہ ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ نکلا، یہاں تک کہ جب ہم سیلحین پہنچے تو وہ اترے اور میں بھی ان کے ساتھ اترا۔ جب میں نے دیکھا کہ وہ اکیلے ہیں تو میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور کہا: اے ابومسعود! ہمارے درمیان محمد ﷺ کے تین صحابہ تھے: حذیفہ تو فوت ہو چکے، اور ابوموسیٰ شام چلے گئے، اور آپ اس سمت چل پڑے ہیں جبکہ فتنے وہ ہو چکے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اے یسیر! میں تمہارا خیرخواہ ہوں، جماعت کے ساتھ لازم رہو، کیونکہ اللہ امتِ محمد ﷺ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا یہاں تک کہ کوئی نیک آرام پائے یا کسی بدکار سے آرام ملے۔“