حدیث نمبر: 14738
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ يَسِيرَ بْنَ عَمْرٍو، أنَّ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ، لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ احْتَجَبَ فِي بَيْتِهِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ أَمْرِ النَّاسِ، فَقَالَ: «عَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَجْمَعْ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ عَلَى ضَلَالَةٍ، وَاصْبِرْ حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ أَوْ يُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِرٍ»
ترجمہ

یسیر بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں چھپ گئے، میں ان کے پاس گیا اور لوگوں کے حالات کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے، کیونکہ اللہ عزوجل نے امتِ محمد ﷺ کو گمراہی پر جمع نہیں کیا، اور صبر کرو یہاں تک کہ کوئی نیک آرام پائے یا کسی بدکار سے لوگوں کو آرام ملے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14738
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 240، حدیث 666