المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يسير بن عمرو، عن أبي مسعود باب: یسیر بن عمرو کی سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 14737
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ يَسِيرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا مَسْعُودٍ لَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ فَتَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ: أَنْشُدُكَ اللهَ مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ؟ فَقَالَ: «إِنَّا لَا نَكْتُمُ شَيْئًا، عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللهِ وَالْجَمَاعَةِ، وَإِيَّاكَ وَالْفُرْقَةَ فَإِنَّهَا هِيَ الضَّلَالُ، وَإنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَكُنْ لَيَجْمَعَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ»ترجمہ
یسیر بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو میں نے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا، تو میں ان کے پیچھے گیا اور عرض کیا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، آپ نے فتنوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم کچھ نہیں چھپاتے، تم پر لازم ہے کہ اللہ سے ڈرو اور جماعت کے ساتھ رہو، اور تفرقہ سے بچو کیونکہ وہی گمراہی ہے، اور اللہ عزوجل امتِ محمد ﷺ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔