حدیث نمبر: 14311
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، أَنَّ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ إلَّا قَلِيلٌ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْحِيرَةِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ بِخِطَامِهَا، وَلَا يَأْتِي عَلَى أَحَدِكُمْ إلَّا قَلِيلٌ حَتَّى يَمْشِيَ الرَّجُلُ بِمِلْءِ كَفِّهِ ذَهَبًا فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ، وَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُعْرَضُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ»
ترجمہ

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہت جلد تم پر وہ وقت آئے گا کہ مکہ اور حیرہ کے درمیان (اکیلی) عورت سفر کرے گی اور کوئی اس کی نکیل تک نہ پکڑے گا۔ اور تم میں سے کسی پر بہت جلد وہ وقت آئے گا کہ آدمی اپنی مٹھی بھر سونا لیے چلے گا اور اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا۔ اور تم میں سے ہر ایک اللہ عزوجل کے سامنے پیش کیا جائے گا، اس کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا، پس جو آگ سے بچ سکے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے، وہ ایسا کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14311
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 101، حدیث 239