المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محل بن خليفة، عن عدي بن حاتم باب: محل بن خلیفہ کی سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ فَضَالَةَ الصَّيْرَفِيُّ، ثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ، ثَنَا أَبُو مُجَاهِدٍ، حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَشْكُو الْعَيْلَةَ وَالْآخَرُ يَشْكُو قَطْعَ السَّبِيلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا قَطْعُ السَّبِيلِ فَلَا يَأْتِي عَلَيْكَ إلَّا قَلِيلٌ حَتَّى يَخْرُجَ الْعِيرُ مِنَ الْحِيرَةِ إِلَى مَكَّةَ عِيرٌ حَفِيرٌ، وَأَمَّا الْعَيْلَةُ فَإِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى يَطُوفَ أَحَدُكُمْ بِصَدَقَتِهِ وَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ، ثُمَّ لَيَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حِجَابُ يُتَرْجِمُ فَلَيَقُولَنَّ: «أَلَمْ أُؤْتِكَ مَالًا؟» فَيَقُولُ: بَلَى فَيَقُولُ: «أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَيْكَ رَسُولًا؟» فَيَقُولُ: بَلَى، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَرَى إلَّا النَّارَ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، فَلْيَتَّقِ أَحَدُكُمُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ "سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا کہ دو آدمی آئے، ان میں سے ایک مفلسی کی شکایت کر رہا تھا اور دوسرا راستوں میں ڈاکہ زنی کی شکایت کر رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہی ڈاکہ زنی، تو تم پر تھوڑا ہی عرصہ گزرے گا کہ قافلہ حیرہ سے مکہ کی طرف (بغیر کسی محافظ کے) نکلے گا۔ اور رہی مفلسی، تو قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم میں سے کوئی اپنا صدقہ لیے پھرے اور اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ملے۔ پھر تم میں سے ہر ایک اللہ عزوجل کے سامنے کھڑا ہو گا، اس کے اور اس کے درمیان کوئی حجاب اور کوئی ترجمان نہ ہو گا، اللہ فرمائے گا: ”کیا میں نے تمہیں مال نہیں دیا تھا؟“ وہ کہے گا: کیوں نہیں۔ اللہ فرمائے گا: ”کیا میں نے تمہاری طرف رسول نہیں بھیجا تھا؟“ وہ کہے گا: کیوں نہیں۔ پھر وہ اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو اسے آگ کے سوا کچھ نظر نہ آئے گا، پھر اپنی بائیں طرف دیکھے گا تو اسے آگ کے سوا کچھ نظر نہ آئے گا۔ پس تم میں سے ہر ایک آگ سے بچے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے، اور اگر یہ میسر نہ ہو تو ایک اچھی بات ہی سے۔“