المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محل بن خليفة، عن عدي بن حاتم باب: محل بن خلیفہ کی سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهْ الْأََصْبَهَانِيُّ قَالَا: ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ، ثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ، ثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَشَكَا الْحَاجَةَ، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَشَكَا قَطْعَ السَّبِيلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَدِيُّ، هَلْ رَأَيْتَ الْحِيرَةَ؟» قُلْتُ: لَا، وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْهَا، قَالَ: «إنْ طَالَتْ بِكَ الْحَيَاةُ لَتَريَنَّ الظَّعَائِنَ مُرْتَحِلِينَ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى يَطُوفُونَ بِالْكَعْبَةِ آمِنِينَ وَلَا يَخَافُونَ إلَّا اللهَ، وَلَئِنْ طَالَ بِكَ حَيَاةٌ لَتُفْتَحَنَّ كُنُوزُ كِسْرَى» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ قَالَ: «كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ، وَلَئِنْ طَالَ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الرَّجُلَ يُخْرِجُ بِمِلْءِ كَفِّهِ دِرْهَمًا أَوْ فِضَّةً يَلْتَمِسُ مَنْ يَقْبَلُهُ» ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ»سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے مفلسی کی شکایت کی، پھر دوسرا آیا اور اس نے راستے میں ڈاکہ زنی کی شکایت کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے عدی! کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، البتہ اس کے بارے میں مجھے بتایا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں زندگی نصیب ہوئی تو تم دیکھو گے کہ کجاووں پر سوار (اکیلی) عورتیں حیرہ سے سفر کریں گی یہاں تک کہ امن کے ساتھ اس کعبہ کا طواف کریں گی، اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں گی۔ اور اگر تمہیں زندگی نصیب ہوئی تو کسریٰ کے خزانے ضرور فتح کیے جائیں گے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کسریٰ بن ہرمز؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، کسریٰ بن ہرمز۔ اور اگر تمہیں زندگی نصیب ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک شخص اپنی مٹھی بھر درہم یا چاندی لے کر نکلے گا، کسی ایسے کی تلاش میں جو اسے قبول کر لے۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آگ سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے، اور اگر یہ میسر نہ ہو تو ایک اچھی بات ہی سے۔“