المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمير مولى آبي اللحم الغفاري واسم آبي اللحم عبد الله بن عبد بن مالك بن عبد الله بن عفان وكان آبي اللحم شاعرا وشهد عمير فتح خيبر وإنما سمي آبي اللحم لأنه كان يمتنع من أكل اللحم. باب: سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ، آبی اللحم غفاری کے آزاد کردہ غلام، آبی اللحم کا نام عبداللہ بن عبد بن مالک بن عبداللہ بن عفان تھا، وہ شاعر تھے، عمیر رضی اللہ عنہ نے خیبر کی فتح میں شرکت کی، اور آبی اللحم اس لیے کہلائے کیونکہ وہ گوشت کھانے سے پرہیز کرتے تھے
حدیث نمبر: 14203
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوكٌ فَقُلْتُ: أَعْطِنِي فَأَعْطَانِي سَيْفًا وَقَالَ: «تَقَلَّدْ بِهِ» فَأَخَذْتُهُ فَتَقَلَدَّتُهُ فَوَقَعَ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ أَعْطَانِي مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِترجمہ
سیدنا عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں خیبر کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اس وقت میں ایک غلام (مملوک) تھا، میں نے عرض کیا: مجھے بھی کچھ دیجیے۔ تو آپ ﷺ نے مجھے ایک تلوار عطا فرمائی اور فرمایا: ”اسے لٹکا لو۔“ میں نے اسے پکڑ کر لٹکایا تو وہ زمین پر گر پڑی، پھر آپ ﷺ نے مجھے سامان کی کچھ فالتو اشیاء میں سے عطا فرمایا۔