حدیث نمبر: 14169
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ: " عَمْرُو بْنُ مَعْدِي كَرِبَ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَقَائِعٌ، وَقَدْ أَدْرَكَ الْإِسْلَامَ، قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَجَّهَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى الْقَادِسِيَّةِ، وَكَانَ لَهُ هُنَاكَ بَلَاءٌ حَسَنٌ، كَتَبَ عُمَرُ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ بِأَلْفَي رَجُلٍ: عَمْرُو بْنُ مَعْدِي كَرِبَ، وَطَلْحَةُ بْنُ خُوَيْلِدٍ وَهُوَ طَلْحَةُ الْأَسَدِيُّ فَشَاوِرْهُمَا فِي الْحَرْبِ وَلَا تُوَلِّهِمَا شَيْئًا "
ترجمہ

محمد بن سلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمرو بن معدی کرب کی زمانہ جاہلیت میں کئی لڑائیاں ہوئیں، پھر انہوں نے اسلام کا زمانہ پایا، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرف قادسیہ بھیجا، وہاں انہوں نے بڑی جانفشانی دکھائی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو (ہدایت کرتے ہوئے) لکھا کہ دو ہزار افراد کے ساتھ عمرو بن معدی کرب اور طلحہ بن خویلد، یعنی طلحہ اسدی، بھی ہیں، تو جنگ کے معاملے میں ان دونوں سے مشورہ کرو لیکن انہیں کوئی عہدہ نہ دو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14169
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 45، حدیث 97