المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن أخبار عمرو بن معدي كرب باب: اور سیدنا عمرو بن معدی کرب رضی اللہ عنہ کے حالات میں سے
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ: " عَمْرُو بْنُ مَعْدِي كَرِبَ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَقَائِعٌ، وَقَدْ أَدْرَكَ الْإِسْلَامَ، قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَجَّهَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى الْقَادِسِيَّةِ، وَكَانَ لَهُ هُنَاكَ بَلَاءٌ حَسَنٌ، كَتَبَ عُمَرُ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ بِأَلْفَي رَجُلٍ: عَمْرُو بْنُ مَعْدِي كَرِبَ، وَطَلْحَةُ بْنُ خُوَيْلِدٍ وَهُوَ طَلْحَةُ الْأَسَدِيُّ فَشَاوِرْهُمَا فِي الْحَرْبِ وَلَا تُوَلِّهِمَا شَيْئًا "محمد بن سلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمرو بن معدی کرب کی زمانہ جاہلیت میں کئی لڑائیاں ہوئیں، پھر انہوں نے اسلام کا زمانہ پایا، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرف قادسیہ بھیجا، وہاں انہوں نے بڑی جانفشانی دکھائی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میں نے تمہاری مدد دو ہزار آدمیوں سے کی ہے: (یعنی) عمرو بن معدی کرب اور طلحہ بن خویلد، یعنی طلحہ اسدی، (یہ دونوں دو ہزار کے برابر ہیں)، تو جنگ کے معاملے میں ان دونوں سے مشورہ کرو لیکن انہیں کوئی عہدہ نہ دو۔