المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن خارجة الأسعدي ويقال: خارجة بن عمرو والصواب: عمرو بن خارجة حليف أبي سفيان بن حرب بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف باب: سیدنا عمرو بن خارجہ اسعدی رضی اللہ عنہ، کہا جاتا ہے: خارجہ بن عمرو، جبکہ درست عمرو بن خارجہ ہے، ابوسفیان بن حرب بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف کے حلیف تھے
حدیث نمبر: 14133
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثَنَا عَبْدُ اللهُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ وَأَنَا آخِذٌ بِجِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وانْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ»ترجمہ
سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، آپ اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار تھے اور میں اس کی نکیل کے پاس تھا، وہ جگالی کر رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، بچہ (شرعی) بستر والے کا ہے، اور بدکار کے لیے پتھر ہے، جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اور اپنے آقاؤں کے سوا کسی اور کی طرف نسبت کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس سے کوئی نفل اور نہ کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گی۔“