المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن خارجة الأسعدي ويقال: خارجة بن عمرو والصواب: عمرو بن خارجة حليف أبي سفيان بن حرب بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف باب: سیدنا عمرو بن خارجہ اسعدی رضی اللہ عنہ، کہا جاتا ہے: خارجہ بن عمرو، جبکہ درست عمرو بن خارجہ ہے، ابوسفیان بن حرب بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف کے حلیف تھے
حدیث نمبر: 14134
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عِيسَى الطَّائِيُّ، ثَنَا طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: " شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ، وَإِنِّي لَبَيْنَ جِرَانِ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّ اللهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، أَلَا وَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ»ترجمہ
سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل کے پاس تھا، وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، اسی حالت میں میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”سنو! اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، سنو! کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، بچہ (شرعی) بستر والے کا ہے، اور بدکار کے لیے پتھر ہے، اور جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا اپنے آقاؤں کے سوا کسی اور کی طرف نسبت کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس سے کوئی نفل اور نہ کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گی۔“