المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن خارجة الأسعدي ويقال: خارجة بن عمرو والصواب: عمرو بن خارجة حليف أبي سفيان بن حرب بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف باب: سیدنا عمرو بن خارجہ اسعدی رضی اللہ عنہ، کہا جاتا ہے: خارجہ بن عمرو، جبکہ درست عمرو بن خارجہ ہے، ابوسفیان بن حرب بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف کے حلیف تھے
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا هِشَامُ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: " كُنْتُ تَحْتَ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَلُعَابُهَا يَتَوَسَّدُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَلَا يَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ فَعَلَيْهُ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ»سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی اونٹنی کے نیچے تھا، وہ اپنا نوالہ (جگالی کرتے ہوئے) چبا رہی تھی، اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان ٹپک رہا تھا، اسی حالت میں میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”بےشک اللہ عزوجل نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، اب کسی وارث کے لیے (کوئی الگ) وصیت جائز نہیں، بچہ (شرعی) بستر والے کا ہے، اور بدکار کے لیے پتھر (یعنی محرومی) ہے، اور جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا اپنے حقیقی آقاؤں سے بےرغبتی کرتے ہوئے کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس سے کوئی نفل اور نہ کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گی۔“