حدیث نمبر: 14124
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِ دِيَارِنَا فَوَجَدَ قُتَارًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ؟» فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنَّا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَانَ يَوْمٌ الطَّعَامُ فِيهِ كَرِيهٌ فَذَبَحْتُ لِآكُلَ وَأُطْعِمَ جِيرَانِي، قَالَ: «فَأَعِدْ الذَّبْحَ» ، قَالَ: لَا وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ مِنَ الضَّأْنِ أَوْ حَمَلٌ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: «فَاذْبَحْهَا وَلَا تُجْزِئُ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ» ، وَكَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ
ترجمہ

سیدنا ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی کریم ﷺ ہمارے گھروں کے درمیان سے گزرے تو آپ نے (گوشت پکنے کی) بو محسوس کی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ کس نے ذبح کیا؟“ ہم میں سے ایک شخص باہر آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آج کا دن ایسا تھا کہ کھانے کی کمی تھی، اس لیے میں نے ذبح کیا تاکہ خود کھاؤں اور اپنے پڑوسیوں کو بھی کھلاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دوبارہ ذبح کرو۔“ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میرے پاس بھیڑ کے ایک سال سے کم عمر بچے کے سوا کچھ نہیں۔ اس نے یہ بات تین بار کہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے ہی ذبح کر لو، اور تمہارے بعد کسی کے لیے کم عمر بچہ کافی نہیں ہوگا۔“ اور اس نے نماز سے پہلے ذبح کیا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14124
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 29، حدیث 52