المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن أخطب أبو زيد الأنصاري باب: سیدنا عمرو بن اخطب ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، أَوْ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ يَوْمًا بَيْنَ ظُهُورِ دِيَارِ الْأَنْصَارِ فَوَجَدَ قُتَارًا، فَقَالَ: «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نَذْبَحَ؟» فَخَرَجَ رَجُلٌ فَقَالَ: هَا أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا يَوْمٌ الطَّعَامُ فِيهِ كَرِيهٌ، قَالَ: «فَأَعِدْ» ، قَالَ: فَوَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إلَّا هُوَ مَا عِنْدِي إلَا جَذَعٌ مِنَ الضَّأْنِ أَوْ حَمَلٌ، قَالَ: «فَاذْبَحْهُ وَلَا تُجْزِئُ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ»سیدنا ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک دن انصار کے گھروں کے درمیان سے گزرے تو آپ نے (گوشت پکنے کی) بو محسوس کی، فرمایا: ”کس نے ہماری قربانی سے پہلے ذبح کر لیا؟“ ایک شخص باہر آیا اور عرض کیا: یہ میں ہوں یا رسول اللہ، آج کا دن ایسا ہے کہ کھانے کی کمی محسوس ہوتی ہے (اس لیے پہلے ذبح کر لیا)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دوبارہ (قربانی) کرو۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میرے پاس بھیڑ کے ایک سال سے کم عمر بچے کے سوا کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسی کو ذبح کر لو، اور تمہارے بعد کسی کے لیے (قربانی میں) کم عمر بچہ کافی نہیں ہوگا۔“