❮
❯
حدیث نمبر: 13829
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: ثنا ابْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ بَعْدَمَا صُلِبَ، أَوْ قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكَلَّمَتْ أُمُّهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الْحَجَّاجَ، فَقَالَتْ: أَمَا آنَ لِهَذَا الرَّاكِبِ أَنْ يَنْزِلَ؟، قَالَ: الْمُنَافِقِ، قَالَتْ: لَا وَاللهِ مَا كَانَ بِمَنَافِقٍ، فَلَقَدْ كَانَ صَوَّامًا قَوَّامًا، قَالَ: اسْكُتِي فَإِنَّكَ عَجُوزٌ قَدْ خَرِفْتِ، قَالَتْ: مَا خَرِفْتُ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفَ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» . فَأَمَّا الْكَذَّابُ، فَقَدْ رَأَيْنَاهُ، يَعْنِي: الْمُخْتَارَ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ
ترجمہ

ابن مختار رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے سولی پر چڑھائے یا قتل کیے جانے کے تین دن بعد مکہ آئے، تو ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے حجاج سے بات کی اور کہا: کیا اس سوار کے اترنے کا وقت نہیں آیا؟ اس نے کہا: اس منافق کا؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! وہ منافق نہیں تھا، وہ تو بہت روزے رکھنے والا اور بہت نماز پڑھنے والا تھا۔ اس نے کہا: چپ رہو، تم بوڑھی ہو چکی ہو اور تمہاری عقل ماند پڑ چکی ہے۔ انہوں نے فرمایا: میری عقل ماند نہیں پڑی جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک فسادی پیدا ہوگا۔“ جھوٹا تو ہم دیکھ چکے - یعنی مختار - اور فسادی تو بس تو ہی ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13829
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 97، حدیث 232