❮
❯
حدیث نمبر: 13828
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِي عَقْرَبَ الْعُرَيْجِيُّ قَالَ: صَلَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ لِيُرِي ذَلِكَ قُرَيْشًا، فَلَمَّا أَنْ نَفَرُوا جَعَلُوا يَمُرُّونَ عَلَيْهِ فَلَا يَقِفُونَ عَلَيْهِ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا خُبَيْبٍ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: نَهَيْتُكَ عَنْ ذَا، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَقَدْ كُنْتَ صَوَّامًا قَوَّامًا، تَصِلُ الرَّحِمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَاسْتَنْزَلَهُ فَرَمَى بِهِ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ، وَبَعَثَ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنْ تَأْتِيَهُ وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا، فَأَبَتْ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا لَتَجِيئَنَّ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ، قَالَتْ: وَاللهِ، لَا آتِيكَ حَتَّى تُرْسِلَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي، فَأَتَى رَسُولُهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: يَا غُلَامُ نَاوِلْنِي سَبْتِيَّتَيَّ، فَنَاوَلَهُ نَعْلَيْهِ، فَقَالَ وَهُوَ يَتَوَقَّدُ حَتَّى أَتَاهَا، فَقَالَ لَهَا: رَأَيْتِ اللهَ صَنَعَ بِعَدُوِّ اللهِ؟، قَالَتْ: رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ، وَأَمَّا مَا كُنْتَ تُعَيِّرُهُ بِذَاتِ النِّطَاقَيْنِ، أَجَلْ لَقَدْ كَانَ لِي نِطَاقَانِ: نِطَاقٌ غُطِّيَ بِهِ طَعَامُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّمْلِ، وَنِطَاقِي الْآخَرُ لَابُدَّ لِلنِّسَاءِ مِنْهُ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ فِي ثَقِيفَ مُبِيرًا وَكَذَّابًا» ، أَمَا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ ذَاكَ، قَالَ: فَخَرَجَ
ترجمہ

ابو نوفل بن ابی عقرب عریجی رحمہ اللہ کہتے ہیں: حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی لاش کو مدینہ کے راستے پر سولی پر لٹکایا تاکہ قریش کو دکھائے۔ جب لوگ وہاں سے گزرنے لگے تو وہ اس کے پاس سے گزرتے رہے مگر رکتے نہیں تھے، یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہاں سے گزرے تو رک گئے اور کہا: السلام علیک اے ابو خبیب! یہ بات انہوں نے تین بار کہی، پھر کہا: میں نے تمہیں اس سے منع کیا تھا، یہ بات بھی انہوں نے تین بار کہی۔ تم تو بہت روزے رکھنے والے، بہت نماز پڑھنے والے، اور صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہاں رکنا حجاج کو پہنچا تو اس نے لاش کو اتروا کر یہود کی قبروں میں پھینکوا دیا، اور سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس، جن کی بینائی جا چکی تھی، پیغام بھیجا کہ وہ اس کے پاس آئیں، انہوں نے انکار کر دیا۔ اس نے پھر پیغام بھیجا کہ تم ضرور آؤ گی ورنہ میں تمہاری طرف کسی کو بھیجوں گا جو تمہیں تمہاری چوٹیوں سے گھسیٹتے ہوئے لے آئے گا۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تیرے پاس نہیں آؤں گی یہاں تک کہ تو کسی کو بھیجے جو مجھے میری چوٹیوں سے گھسیٹے۔ اس کا قاصد اس کے پاس واپس آیا اور اسے یہ بتایا، تو اس نے کہا: اے غلام! میرے دونوں جوتے مجھے دے۔ اس نے اسے اس کے دونوں جوتے دیے، تو وہ بھڑکتا ہوا چل پڑا یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچا، اور ان سے کہا: کیا تم نے دیکھا کہ اللہ نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ تم نے اس کی دنیا برباد کر دی اور اس نے تمہاری آخرت برباد کر دی۔ رہی وہ بات جس پر تم اسے ”ذاتِ نطاقین“ کہہ کر طعنہ دیا کرتے تھے، تو ہاں! میرے دو پٹکے تھے: ایک پٹکا جس سے رسول اللہ ﷺ کا کھانا چیونٹیوں سے ڈھانپا جاتا تھا، اور دوسرا پٹکا وہ تھا جس سے عورتوں کو ہر حال میں چارہ نہیں۔ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”ثقیف میں ایک بڑا فسادی اور ایک بڑا جھوٹا پیدا ہوگا۔“ جھوٹے کو تو ہم دیکھ چکے، اور فسادی بس تو ہی ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ وہاں سے نکل گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13828
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 96، حدیث 231