حدیث نمبر: 13821
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتَنِي، أَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللهِ» . فَكَانَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَبْدِ اللهِ حَتَّى مَاتَتْ، وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ
ترجمہ

ہشام بن عروہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: آپ کی سب بیویوں کی کنیت ہے سوائے میرے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کنیت رکھ لو، تم ام عبداللہ ہو۔“ چنانچہ انہیں ام عبداللہ کہا جاتا رہا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئیں، حالانکہ انہوں نے کبھی بچے کو جنم نہیں دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13821
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 89، حدیث 224