❮
❯
حدیث نمبر: 13820
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِكُلِّ صَوَاحِبَاتِي كُنًى، فَلَوْ كَنَّيْتَنِي، قَالَ: «فَاكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ» . وَكَانَتْ تُكَنَّى أُمَّ عَبْدِ اللهِ حَتَّى مَاتَتْ
ترجمہ

ہشام بن عروہ اپنے والد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میری تمام سہیلیوں کی کنیت ہے، کاش آپ میری بھی کنیت رکھ دیتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بیٹے (یعنی بھانجے) عبداللہ بن زبیر کے نام پر کنیت رکھ لو۔“ چنانچہ وہ مرتے دم تک ام عبداللہ کی کنیت سے پکاری جاتی رہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13820
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 89، حدیث 223