المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عيسى بن هلال الصدفي، عن عبد الله بن عمرو باب: عیسیٰ بن ہلال صدفی کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13754
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: ثنا أَبِي قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدٌ جَعَلَهُ اللهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ» ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مِنْحَةَ أَهْلِي أَفَأُضَحِّي بِهَا؟، فَقَالَ: «لَا وَلَكِنْ قَلِّمْ أَظْفَارَكَ، وَاحْلِقْ عَانَتَكَ وَخُذْ شَارِبَكَ، فَذَاكَ تَمَامُ أُضْحِيَتِكَ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے قربانی کے دن کا حکم دیا گیا ہے، ایک عید جسے اللہ نے اس امت کے لیے مقرر کیا ہے۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: اگر میرے پاس گھر والوں کی دودھ دینے والی بکری کے سوا کچھ نہ ہو تو کیا میں اسی کی قربانی کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اپنے ناخن تراشو، اپنے زیرِ ناف بال مونڈو، اور اپنی مونچھیں کترو، یہی تمہاری قربانی کی تکمیل ہے۔“