المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عيسى بن هلال الصدفي، عن عبد الله بن عمرو باب: عیسیٰ بن ہلال صدفی کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَقْرِئْنِي، قَالَ: «أُقْرِئُكَ مِنْ ذَوَاتِ الْحَوَامِيمِ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ثَقُلَ لِسَانِي وَغَلُظَ كَبِدِي، قَالَ «أُقْرِئَكَ مِنْ ذَوَاتِ الر» ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ قَوْلِهِ، قَالَ: «أُقْرِئُكَ مِنْ ذَوَاتِ الْمُسَبِّحَاتِ» فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ، فَقَالَ: «عَلَيْكَ بِالسُّورَةِ الْجَامِعَةِ الْفَاذَّةِ» ، فَأَقْرَأَهُ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: حَسْبِي، ثُمَّ أَدْبَرَ، وَنَادَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أُمِرْتُ بِالْأُضْحِيَةِ فَانْسُكْ نُسْكَةَ يَوْمِ الْأَضْحَى» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا شَاةَ أَهْلِي؟، قَالَ: «لَا، وَلَكِنِ اقْصُرْ شَارِبَكَ وَقَلِّمْ أَظْفَارَكَ فَإِنَّهُ مِنْ تَمَامِ أُضْحِيَتِكَ» . زَادَ الْمُقْرِئُ فِي حَدِيثِهِ: «وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ» .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، مجھے قرآن پڑھائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں حوامیم والی سورتوں میں سے پڑھاتا ہوں۔“ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میری زبان بھاری ہے اور میرا دل سخت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میں تمہیں الر والی سورتوں میں سے پڑھاتا ہوں۔“ اس نے پھر وہی بات کہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میں تمہیں مسبحات والی سورتوں میں سے پڑھاتا ہوں“، اس نے پھر وہی پہلی بات کہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں جامع اور اکیلی سورت کافی ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے ”اذا زلزلت الارض زلزالھا“ پڑھائی، تو دیہاتی نے کہا: مجھے یہی کافی ہے، پھر وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا، نبی کریم ﷺ نے اسے آواز دی تو وہ واپس آیا، نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”مجھے قربانی کا حکم دیا گیا ہے، تو تم بھی قربانی کے دن قربانی کرو۔“ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اگر میرے پاس گھر والوں کی بکری کے سوا کچھ نہ ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اپنی مونچھیں چھوٹی کرو اور ناخن تراشو، یہی تمہاری قربانی کی تکمیل ہے۔“ مقرئ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: ”اور اپنے زیرِ ناف بال مونڈو۔“