المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الحصين، عن عبد الله بن عمرو باب: ابوحصین کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13721
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ: ثنا شُعْبَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: ثنا ابْنُ لهِيعَةَ، قَالَ: ثنا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، ثُمَّ صَلَّاهَا مِنَ الْغَدِ فَأَسْفَرَ، ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» ، فَقَالَ: أَنَا، فَقَالَ: «الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ أَمْسِ وَالْيَوْمِ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے فجر کی نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھی، پھر اگلے دن اسے خوب روشنی میں پڑھا، پھر فرمایا: ”سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ اس نے عرض کیا: میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وقت انہی دونوں کے درمیان ہے۔“