حدیث نمبر: 13720
حَدَّثَنَا هَارُونُ، قَالَ: ثنا الْمُقْرِئُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غُرَابٍ الْيَحْصِبِيُّ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ جُلُوسٌ، فَأَوْسَعْنَا لَهُ فَجَلَسَ، ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ أَصْحَابِي الَّذِينَ هُمْ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُمْ وَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَيَدْخُلُونَهَا مَعِي» ، قَالَهَا ثَلَاثًا، فَقُلْنَا: أَغَيْرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «نَعَمْ، أَهْلُ الْيَمَنِ الْمُطْرَحِينَ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ، الْمَدْفُوعِينَ عَنْ أَبْوَابِ السُّلْطَانِ، يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَمْ يِقْضِهَا»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے آپ ﷺ کے لیے جگہ کشادہ کر دی تو آپ ﷺ بیٹھ گئے، پھر فرمایا: ”میرے وہ ساتھی کہاں ہیں جو مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، میں جنت میں داخل ہوں گا اور وہ میرے ساتھ اس میں داخل ہوں گے“، آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی، تو ہم نے عرض کیا: کیا ہم نہیں ہیں، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یمن والے، جو زمین کے کناروں پر ڈال دیے گئے ہیں، حکمرانوں کے دروازوں سے دھتکارے گئے ہیں، ان میں سے کوئی مر جاتا ہے اور اس کی ضرورت اس کے سینے ہی میں رہ جاتی ہے، وہ اسے پورا نہیں کر پاتا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13720
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 50، حدیث 123