المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء بن أبي رباح، عن ابن عمر باب: عطاء بن ابی رباح کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَصَلَّى بِالنَّاسِ الْعَصْرَ، وَهُوَ قَاعِدٌ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فَمَرَّ كَلْبٌ لِيَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ فَأَشْفَقَ أَنْ يَمُرَّ عَلَيْهِ، فَدَعَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَلَى الْكَلْبِ فَأَهْلَكَهُ اللهُ بِقُدْرَتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ وَنَظَرَ إِلَى الْكَلْبِ قَدْ هَلَكَ، قَالَ: «مَنِ الدَّاعِي مِنْكُمْ عَلَى هَذَا الْكَلْبِ؟» فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ، فَأَعَادَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ عِنْدَ ذَلِكَ: أَنَا الدَّاعِي عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَشْفَقْتُ أَنْ يَقْطَعَ عَلَيْكَ صَلَاتَكَ فَدَعَوْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ دَعَوْتَ عَلَيْهِ يَا سَعْدُ؟» فَقَالَ سَعْدٌ سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ , يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ أَهْلِكْ هَذَا الْكَلْبَ أَنْ يَقْطَعَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَاتَهُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا سَعْدُ , لَقَدْ دَعَوْتَ فِي يَوْمٍ وَسَاعَةٍ بِكَلِمَاتٍ لَوْ دَعَوْتَ عَلَى مَنْ بَيْنَ السَّمَاوَاتِ لَاسْتُجِيبَ لَكَ فَأَبْشِرْ يَا سَعْدُ»سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے جمعہ کے دن نبی کریم ﷺ سے (یہ واقعہ) سنا: آپ ﷺ نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی، اور آپ ﷺ پہلی دو رکعتوں (کے بعد) بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کتا گزرنے لگا تاکہ آپ ﷺ کی نماز کاٹ دے، تو اندیشہ ہوا کہ وہ آپ ﷺ کے سامنے سے گزر جائے گا، چنانچہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کتے کے خلاف بددعا کی تو اللہ نے اپنی قدرت سے اسے ہلاک کر دیا۔ جب نبی کریم ﷺ اپنی نماز سے فارغ ہوئے اور دیکھا کہ کتا مر چکا ہے تو فرمایا: ”تم میں سے اس کتے کے خلاف بددعا کرنے والا کون تھا؟“ کوئی نہ بولا، نبی اللہ ﷺ نے دوبارہ پوچھا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے ہی اس کے خلاف بددعا کی، مجھے ڈر تھا کہ یہ آپ کی نماز کاٹ نہ دے، اس لیے میں نے اس کے خلاف بددعا کر دی۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے سعد! تم نے اس کے خلاف کیسے بددعا کی؟“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: (میں نے کہا:) اے اللہ! تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اے جلال اور اکرام والے! اس کتے کو ہلاک کر دے تاکہ یہ تیرے نبی کی نماز نہ کاٹے۔ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے سعد! تم نے ایسے دن اور ایسی گھڑی میں ایسے کلمات کے ساتھ بددعا کی کہ اگر تم آسمانوں کے درمیان کسی کے خلاف بددعا کرتے تو وہ بھی قبول ہو جاتی، تو خوشخبری ہو اے سعد۔“