حدیث نمبر: 13553
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمَ أُدْخِلَ رَجُلٌ فِي قَبْرِهِ، فَأَتَاهُ مَلَكَانَ فَقَالَا لَهُ: إِنَّا ضَارِبُوكَ ضَرْبَةً، فَقَالَ لَهُمَا: عَلَامَ تَضْرِبَانِي؟ فَضَرَبَاهُ ضَرْبَةً امْتَلَأَ قَبْرُهُ مِنْهَا نَارًا، فَتَرَكَاهُ حَتَّى أَفَاقَ وَذَهَبَ عَنْهُ الرُّعْبُ، فَقَالَ لَهُمَا عَلَامَ ضَرَبْتُمَانِي؟ فَقَالَا: إِنَّكَ صَلَّيْتَ صَلَاةً، وَأَنْتَ عَلَى غَيْرِ طُهُورٍ، وَمَرَرْتَ بِرَجُلٍ مَظْلُومٍ وَلَمْ تَنْصُرْهُ "
ترجمہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس دن ایک آدمی کو اس کی قبر میں داخل کیا گیا تو اس کے پاس دو فرشتے آئے اور اس سے کہا: ہم تمہیں ایک ضرب لگانے والے ہیں۔ اس نے ان سے کہا: مجھے کس بات پر مارتے ہو؟ انہوں نے اسے ایک ایسی ضرب لگائی کہ اس کی قبر اس سے آگ سے بھر گئی، پھر اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ ہوش میں آیا اور اس کی گھبراہٹ ختم ہو گئی، تو اس نے ان سے کہا: تم نے مجھے کس بات پر مارا؟ انہوں نے کہا: تم نے بغیر طہارت کے نماز پڑھی تھی، اور تم ایک مظلوم آدمی کے پاس سے گزرے اور اس کی مدد نہ کی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13553
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 443، حدیث 13610