حدیث نمبر: 13010
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ قُرَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ سِيرِينَ: هَلْ كَانُوا يُمَازِحُونَ؟ قَالَ: مَا كَانُوا إِلَّا كَالنَّاسِ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمْزَحُ وَيُنْشِدُ الشِّعْرَ وَيَقُولُ: «
[البحر الوافر]
يُحَبُّ الْخَمْرُ مِنْ مَالِ النَّدَامَى ... وَيُكْرَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ الْفُلُوسُ»
ترجمہ

قرہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابن سیرین سے پوچھا: کیا وہ (صحابہ کرام) مذاق کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: وہ بھی عام لوگوں ہی کی طرح تھے، ابن عمر رضی اللہ عنہما مذاق کرتے اور شعر پڑھتے تھے اور کہتے: ”(بحر وافر کے وزن پر) شراب پینے والوں کو اپنے ساتھیوں کے مال سے پی جانے والی شراب پسند آتی ہے… اور یہ ناپسند کیا جاتا ہے کہ روپیہ پیسہ ان سے جدا ہو جائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13010
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 266، حدیث 13066