حدیث نمبر: 13006
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى ابْنِ عُمَرَ , فَسَأَلَهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَحْرَمْتُ، وَقَدْ جَمَعْتُ شَعْرِي , فَقَالَ: " أَمَا سَمِعْتَ عُمَرَ فِي خِلَافَتِهِ قَالَ: مَنْ ضَفَّرَ رَأْسَهُ أَوْ لَبَّدَهُ فَلْيَحْلِقْ؟ " قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي لَمْ أُضَفِّرْهُ، وَلَكِنِّي جَمَعْتُهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «عَنْزٌ، وَتَيْسٌ، وَتَيْسُ عَنْزٍ»
ترجمہ

…میں نے اپنے بال جمع کر رکھے تھے، تو انہوں نے فرمایا: ”کیا تم نے عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی خلافت میں یہ کہتے نہیں سنا کہ جو شخص اپنے سر کے بال گوندھے یا جما لے وہ (احرام کھولتے وقت) سر منڈوائے؟“ اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! میں نے انہیں گوندھا نہیں بلکہ صرف جمع کیا تھا۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”بکری، بکرا، اور بکری کا بکرا (سب برابر ہے، کوئی فرق نہیں)۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13006
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 265، حدیث 13062