المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ذكر سنه ووفاته باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عمر اور وفات کا بیان
حدیث نمبر: 13006
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى ابْنِ عُمَرَ , فَسَأَلَهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَحْرَمْتُ، وَقَدْ جَمَعْتُ شَعْرِي , فَقَالَ: " أَمَا سَمِعْتَ عُمَرَ فِي خِلَافَتِهِ قَالَ: مَنْ ضَفَّرَ رَأْسَهُ أَوْ لَبَّدَهُ فَلْيَحْلِقْ؟ " قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي لَمْ أُضَفِّرْهُ، وَلَكِنِّي جَمَعْتُهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «عَنْزٌ، وَتَيْسٌ، وَتَيْسُ عَنْزٍ»ترجمہ
ازرق بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: اے ابو عبدالرحمٰن! میں نے احرام باندھ لیا ہے اور اپنے بالوں کو جمع کر لیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں سنا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں فرمایا تھا: جو شخص اپنے سر کے بالوں کو گوندھے یا جما لے وہ سر منڈوائے؟“ اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! میں نے انہیں گوندھا نہیں بلکہ صرف جمع کیا تھا۔ اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بکری، اور بکرا، اور بکری کا بکرا۔“