حدیث نمبر: 13002
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ عِنْدَ الْبَيْتِ عَنِ الْوِتْرِ، فَجَعَلَ يَقُولُ: «آخِرَ اللَّيْلِ» ، فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ أَرَأَيْتَ؟ فَقَالَ: «اجْعَلْ أَرَأَيْتَ عِنْدَ ذَاكَ الْكَوْكَبِ، وَأَشَارَ إِلَى السَّمَاءِ، صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ»
ترجمہ

ابو مجلز بیان کرتے ہیں: میں بیت اللہ کے پاس ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں پوچھتا رہتا، وہ فرماتے: ”رات کے آخری حصے میں۔“ میں نے کہا: بتائیے اگر ایسا ہو، بتائیے اگر ایسا ہو (تو کیا حکم ہے)؟ انہوں نے فرمایا: ”اس ‘بتائیے اگر ایسا ہو’ کو اس ستارے کے پاس رکھ دو“، اور آسمان کی طرف اشارہ کیا، ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور وتر رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13002
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 264، حدیث 13058