حدیث نمبر: 12992
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: كَتَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بَلَغَنِي أَنَّكَ طَلَبْتَ الْخِلَافَةَ، وَإِنَّ الْخِلَافَةَ لَا تَصْلُحُ لِعَيِيٍّ، وَلَا بَخِيلٍ، وَلَا غَيُورٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عُمَرَ: «أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْخِلَافَةِ أَنِّي طَلَبْتُهَا فَمَا طَلَبْتُهَا، وَمَا هِيَ مِنْ بَالِي، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعِيِّ، وَالْبُخْلِ، وَالْغَيْرَةِ، فَإِنَّ مَنْ جَمَعَ كِتَابَ اللهِ فَلَيْسَ بِعَيِيٍّ، وَمَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَلَيْسَ بِبَخِيلٍ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْغَيْرَةِ فَإِنَّ أَحَقَّ مَا غِرْتُ فِيهِ وَلَدِي أَنْ يُشْرِكَنِي فِيهِ غَيْرِي»
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: حجاج بن یوسف نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو لکھا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے خلافت طلب کی ہے، اور خلافت کسی گونگے، بخیل، یا حد سے زیادہ غیرت مند شخص کے لیے مناسب نہیں۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے لکھا: ”جہاں تک تم نے خلافت کا ذکر کیا کہ میں نے اسے طلب کیا، تو میں نے اسے طلب نہیں کیا، اور نہ ہی یہ میرے دل میں ہے۔ اور جہاں تک تم نے گونگے پن، بخل، اور غیرت کا ذکر کیا، تو جو شخص اللہ کی کتاب کو جمع کر لے وہ گونگا نہیں ہو سکتا، اور جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے وہ بخیل نہیں ہو سکتا۔ رہی غیرت جس کا تم نے ذکر کیا، تو سب سے زیادہ حق رکھنے والی چیز جس پر میں غیرت کروں وہ میری اولاد ہے، کہ اس میں میرے سوا کوئی اور شریک ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12992
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 261، حدیث 13048