حدیث نمبر: 12991
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: " لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ جَاءَ عَلِيٌّ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّكَ مَحْبُوبٌ فِي النَّاسِ فَسِرْ إِلَى الشَّامِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: بِقَرَابَتِي، وَصُحْبَتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالرَّحِمِ الَّتِي بَيْنَنَا فَلَمْ يُعَاوِدْهُ "
ترجمہ

نافع بیان کرتے ہیں: ”جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہا: تم لوگوں میں محبوب ہو، تو شام کی طرف روانہ ہو جاؤ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میری آپ سے رشتہ داری، نبی کریم ﷺ کی میری صحبت، اور ہمارے درمیان جو قرابت ہے، اس کی قسم! (میں ایسا نہیں کروں گا)۔ چنانچہ انہوں نے دوبارہ اصرار نہیں کیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12991
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 261، حدیث 13047