حدیث نمبر: 12990
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلُّويَةَ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكُ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: «مَا يَمْنَعُنِي مِنْهِ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَيَّ دَمَ أَخِي الْمُسْلِمِ» ، قَالَ: فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ} [الأنفال: ٣٩] قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «فَقَدْ قَاتَلْنَاهُمْ حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ وَكَانَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ، وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ أُقَاتِلَ حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَيَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللهِ»
ترجمہ

نافع بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی اور امیر المومنین کے بیٹے ہو کر بھی اس معاملے سے کیوں رکے ہوئے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس سے صرف یہ چیز روکتی ہے کہ اللہ عزوجل نے میرے مسلمان بھائی کا خون مجھ پر حرام کیا ہے۔“ اس نے کہا: لیکن اللہ عزوجل تو فرماتا ہے: ”اور ان سے اس وقت تک لڑو جب تک فتنہ ختم نہ ہو جائے اور دین سب اللہ ہی کے لیے ہو جائے“ [سورۃ الانفال: 39]۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہم نے تو ان سے لڑائی کی یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا اور دین سب اللہ ہی کے لیے ہو گیا، جبکہ تم چاہتے ہو کہ میں اس طرح لڑوں کہ فتنہ نئے سرے سے پیدا ہو جائے اور دین غیراللہ کے لیے ہو جائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12990
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 261، حدیث 13046