المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس باب: علی بن ابی طلحہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا} [المائدة: ٣٣] قَالَ: «قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ وَمِيثَاقٌ فَنَقَضُوا الْعَهْدَ، وَأَفْسَدُوا فِي الْأَرْضِ فَخَيَّرَ اللهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ شَاءَ أَنْ يَقْتُلَ، وَإِنْ شَاءَ صَلَبَ وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ، وَأَمَّا النَّفْيُ فَهُوُ الْهَرَبُ فِي الْأَرْضِ، فَإِنْ جَاءَ تَائِبًا فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ قُبِلَ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْخَذْ بِمَا سَلَفَ مِنْهُ»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ”بیشک ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں“ [سورۃ المائدۃ: 33] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یہ اہلِ کتاب کی ایک قوم تھی جن کے اور نبی کریم ﷺ کے درمیان عہد و پیمان تھا، پھر انہوں نے عہد توڑ دیا اور زمین میں فساد پھیلایا، تو اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو اختیار دیا: اگر چاہیں تو قتل کر دیں، اگر چاہیں تو سولی دے دیں، اور اگر چاہیں تو ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیں۔ رہا نفی تو وہ زمین میں بھاگتے پھرنا ہے، اور اگر وہ توبہ کر کے اسلام میں داخل ہو جائے تو اسے قبول کیا جائے گا اور اس کے پچھلے کیے پر گرفت نہیں کی جائے گی۔“