المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس باب: علی بن ابی طلحہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12970
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: ٢٣] ، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَابَةٌ فِي جَمِيعِ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا كَذَّبُوهُ فَأَبَوْا أَنْ يُتَابِعُوهُ قَالَ: «يَا قَوْمِ , أَرَأَيْتُمْ إِذَا أَبَيْتُمْ أَنْ تُتَابِعُونِي فَاحْفَظُوا قَرَابَتِي فِيكُمْ، وَلَا يَكُونُ غَيْرُكُمْ مِنَ الْعَرَبِ أَوْلَى بِحِفْظِي وَنُصْرَتِي عَنْكُمْ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ”کہہ دیجیے: میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابت داری کی محبت کے“ [سورۃ الشوریٰ: 23] کے بارے میں فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی قریش کے تمام قبیلوں میں رشتہ داری تھی، تو جب انہوں نے آپ ﷺ کو جھٹلایا اور آپ ﷺ کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میری قوم! تمہارا کیا خیال ہے، اگر تم میری پیروی کرنے سے انکار کرتے ہو تو کم از کم میرے ساتھ اپنی رشتہ داری کا خیال رکھو، اور ایسا نہ ہو کہ عرب میں سے تمہارے علاوہ دوسرے لوگ میری حفاظت اور مدد کرنے میں تم سے زیادہ حقدار ہوں۔“