حدیث نمبر: 12970
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: ٢٣] ، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَابَةٌ فِي جَمِيعِ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا كَذَّبُوهُ فَأَبَوْا أَنْ يُتَابِعُوهُ قَالَ: «يَا قَوْمِ , أَرَأَيْتُمْ إِذَا أَبَيْتُمْ أَنْ تُتَابِعُونِي فَاحْفَظُوا قَرَابَتِي فِيكُمْ، وَلَا يَكُونُ غَيْرُكُمْ مِنَ الْعَرَبِ أَوْلَى بِحِفْظِي وَنُصْرَتِي عَنْكُمْ»
ترجمہ

…اللہ تعالیٰ کا فرمان: ”فرما دیجیے: میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابت داری کی محبت کے“ [سورۃ الشوریٰ: 23] کے بارے میں فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی قریش کے تمام قبائل میں رشتہ داری تھی، جب انہوں نے آپ ﷺ کو جھٹلایا اور آپ ﷺ کی پیروی سے انکار کر دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میری قوم! کیا تم دیکھتے نہیں کہ اگر تم میری پیروی سے انکار کر دو تو کم از کم میری رشتہ داری کا خیال تو رکھو، اور کوئی دوسرا عرب تم سے بڑھ کر میری حفاظت اور مدد کا حق دار نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12970
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 254، حدیث 13026