المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس باب: علی بن ابی طلحہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا مُعَاوِيَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ، وَسَعِيدٌ} [هود: ١٠٥] ، وَنَحْوُ هَذَا مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يَحْرِصُ أَنْ يُؤْمِنَ جَمِيعُ النَّاسِ، وَيُتَابِعُوهُ عَلَى الْهُدَى، فَأَخْبَرَهُ اللهُ أَنَّهُ لَا يُؤْمِنُ إِلَّا مَنْ سَبَقَ لَهُ مِنَ السَّعَادَةِ فِي الذِّكْرِ الْأَوَّلِ، وَلَا يَضِلُّ إِلَّا مَنْ سَبَقَ لَهُ مِنَ الشَّقَاءِ فِي الذِّكْرِ الْأَوَّلِ» ، ثُمَّ قَالَ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَنْ لَا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ} ، يَقُولُ: {إِنْ نَشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ} [الشعراء: ٤]سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ”تو ان میں سے کچھ بدبخت ہیں اور کچھ نیک بخت“ [سورۃ ہود: 105] اور اس جیسی دیگر آیاتِ قرآنی کے بارے میں فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ اس بات کے بہت خواہشمند تھے کہ تمام لوگ ایمان لے آئیں اور ہدایت پر آپ ﷺ کی پیروی کریں، تو اللہ نے آپ ﷺ کو بتایا کہ وہی ایمان لائے گا جس کے لیے ازل میں نیک بختی مقدر ہو چکی ہے، اور وہی گمراہ ہوگا جس کے لیے ازل میں بدبختی مقدر ہو چکی ہے۔“ پھر اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ”شاید آپ اپنی جان کو اس غم میں ہلاک کر ڈالیں کہ وہ ایمان نہیں لاتے“ - فرماتا ہے: ”اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں تو ان کی گردنیں اس کے سامنے جھکی رہ جائیں“ [سورۃ الشعراء: 4]۔