❮
❯
حدیث نمبر: 12971
حَدَّثَنَا بَكْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ، وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ} [البقرة: ١٥٧] ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا سَلَّمَ لِأَمْرِ اللهِ وَرَجَعَ , فَاسْتَرْجَعَ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ كَتَبَ ثَلَاثَ خِصَالٍ مِنَ الْخَيْرِ: الصَّلَاةُ، وَالرَّحْمَةُ وَتَحْقِيقُ سَبِيلِ الْهُدَى، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَرْجَعَ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ جَبَرَ اللهُ مُصِيبَتَهُ، وَأَحْسَنَ عُقْبَاهُ، وَجَعَلَ لَهُ خَلَفًا صَالِحًا يَرْضَاهُ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ”وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: بیشک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے رحمتیں اور مہربانی ہے، اور یہی ہدایت پانے والے ہیں“ [سورۃ البقرۃ: 157] کے بارے میں فرماتے ہیں: اللہ عزوجل نے ہمیں بتایا ہے کہ مومن جب اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور مصیبت کے وقت ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ کہہ کر رجوع کرے تو اس کے لیے تین بھلائیاں لکھی جاتی ہیں: صلاۃ، رحمت، اور ہدایت کے راستے کی توفیق۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مصیبت کے وقت استرجاع کرے (یعنی انا للہ وانا الیہ راجعون کہے) تو اللہ اس کی مصیبت کا بدلہ عطا کرتا ہے، اس کا انجام بہتر بناتا ہے، اور اسے ایسا نعم البدل عطا کرتا ہے جس پر وہ راضی ہو جائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12971
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 255، حدیث 13027