المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
شهر بن حوشب، عن ابن عباس باب: شہر بن حوشب کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ثنا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا سَوْدَةُ وَكَانَتْ مُصْبِيَةً وَكَانَتْ لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ بَعْلٍ لَهَا مَاتَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي؟» ، قَالَتْ: وَاللهِ يَا نَبِيَّ اللهِ مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ وَلَكِنِّي أُكْرِمُكَ أَنْ تَصْغُوَ هَؤُلَاءِ الصِّبْيَةَ عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً، قَالَ: «أَمَا يَمْنَعُكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ؟» قَالَتْ: لَا وَاللهِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَرْحَمُكِ اللهُ إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ»…نبی کریم ﷺ نے اپنی قوم کی ایک عورت کو، جسے سودہ کہا جاتا تھا، نکاح کا پیغام بھیجا۔ وہ بیوہ تھی اور اس کے مرحوم شوہر سے اس کے پانچ یا چھ بچے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہیں مجھ سے کیا چیز روکتی ہے؟“ اس نے کہا: اللہ کی قسم، اے اللہ کے نبی! مجھے آپ سے کوئی چیز نہیں روکتی سوائے اس کے کہ آپ مجھے تمام مخلوق سے زیادہ محبوب ہیں، لیکن میں آپ کی عزت کا خیال رکھتی ہوں کہ یہ بچے صبح و شام آپ کے سر کے پاس شور مچائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس کے سوا اور کوئی چیز تمہیں مجھ سے نہیں روکتی؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے، بیشک اونٹوں کی پیٹھ پر سوار ہونے والی عورتوں میں سب سے بہتر قریش کی نیک عورتیں ہیں، جو بچپن میں اپنی اولاد پر سب سے زیادہ مہربان اور اپنے شوہر کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہیں۔“