المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ فِي قَبِيلَتَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ شَرِبُوا حَتَّى إِذَا ثَمِلُوا، عَبَثَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ، فَلَمَّا صَحَوْا جَعَلَ الرَّجُلُ يَرَى الْأَثَرَ بِوَجْهِهِ وَبِرَأْسِهِ وَبِلِحْيَتِهِ، يَقُولُ: فَعَلَ بِي هَذَا أَخِي فُلَانٌ، فَوَاللهِ لَوْ كَانَ بِي رَءُوفًا رَحِيمًا مَا فَعَلَ هَذَا بِي. قَالَ: وَكَانُوا أُخْوَةً لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ضَغَائِنُ، فَوَقَعَتْ فِي قُلُوبِهِمُ الضَّغَائِنُ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمِلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ، وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ} [المائدة: ٩١] ، فَقَالَ نَاسٌ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ: هِيَ رِجْسٌ، وَهِيَ فِي بَطْنِ فُلَانٍ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَفُلَانٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا} [المائدة: ٩٣] الْآيَةَ "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: شراب کی حرمت انصار کے دو قبیلوں میں نازل ہوئی۔ انہوں نے شراب پی، یہاں تک کہ جب وہ نشے میں مدہوش ہو گئے تو ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگے۔ جب انہیں ہوش آیا تو آدمی اپنے چہرے، سر اور داڑھی پر (زخموں کے) نشان دیکھتا اور کہتا: یہ میرے فلاں بھائی نے میرے ساتھ کیا ہے، حالانکہ اللہ کی قسم اگر وہ مجھ پر شفیق اور رحم کرنے والا ہوتا تو ایسا نہ کرتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: وہ آپس میں بھائی بھائی تھے، ان کے دلوں میں کوئی کدورت نہیں تھی، لیکن (اس واقعے سے) ان کے دلوں میں کدورتیں پیدا ہو گئیں۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بےشک شراب، جوا، بت اور فال کے تیر سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آنے والے ہو؟“ [المائدة: 91]۔ پھر تکلف کرنے والے کچھ لوگوں نے کہا: یہ تو گندگی ہے، حالانکہ یہ (پہلے سے) فلاں کے پیٹ میں ہے جو بدر کے دن قتل ہوا، اور فلاں کے پیٹ میں ہے جو احد کے دن قتل ہوا۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے“ [المائدة: 93] پوری آیت تک۔