حدیث نمبر: 12391
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، وَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: «أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ كُنْتِ قَاضِيَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: «فَحُجِّي عَنْهَا وَاقْضِي الَّذِي عَلَيْهَا، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی اور حج کیے بغیر فوت ہو گئیں، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ، اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف سے حج کرو اور جو ان پر ہے اسے ادا کرو، کیونکہ اللہ عزوجل اپنے حق کی ادائیگی کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12391
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 50، حدیث 12444