حدیث نمبر: 12241
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْبَزَّازُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «انْطَلَقَ جِبْرِيلُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ فَأَتَى بِهِ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَإِذَا إِبْلِيسُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَسَاخَ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى فَإِذَا هُوَ بإِبليسَ، فَأَمَرَهُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَسَاخَ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ أَتَى الثَّالِثَةَ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِ، ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعَاءَ، ثُمَّ لَبَّى مِنْ عَرَفَاتٍ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کو لے گئے تاکہ انہیں مناسک دکھائیں، تو انہیں جمرہ عقبہ پر لائے، وہاں ابلیس موجود تھا، تو انہیں حکم دیا، انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں، وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر جمرہ وسطیٰ کے پاس آئے، وہاں بھی ابلیس تھا، تو انہیں حکم دیا، انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں، وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر تیسری جمرہ پر آئے، وہاں بھی ایسا ہی کیا۔ پھر انہیں مزدلفہ لے آئے، پھر عرفات سے تلبیہ کہی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12241
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 456، حدیث 12293