حدیث نمبر: 12240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ذَهَبَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَسَاخَ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ»
" فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ يَذْبَحَ إِسْحَاقَ قَالَ لِأَبِيهِ: إِذَا ذَبَحْتَنِي فَاعْتَزَلْ لَا أَضْطَرِبُ فَيَنْتَفِخُ عَلَيْكَ دَمِي فَشَدَّهُ، فَلَمَّا أَخَذَ الشَّفْرَةَ وَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ نُودِي مِنْ خَلْفِهِ {أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا} [الصافات: ١٠٥] "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کو لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے تو شیطان ان کے سامنے آیا، انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں، وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر جمرہ اقصیٰ کے پاس آئے تو شیطان پھر سامنے آیا، انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں۔
جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے والد سے کہا: جب آپ مجھے ذبح کریں تو رخ پھیر لیجیے گا، کہیں میں تڑپوں اور میرا خون آپ پر نہ اچھل پڑے؛ تو انہوں نے انہیں باندھ دیا۔ جب چھری پکڑی اور انہیں ذبح کرنا چاہا تو انہیں پیچھے سے آواز دی گئی: ”اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کر دکھایا“ [سورۃ الصافات: 105]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12240
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 456، حدیث 12292