حدیث نمبر: 1222
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْخَشَّابِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْعَبْدِيِّ، عَنِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ السَّدُوسِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَايِعُهُ فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُصَلِّي الْخَمْسَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، وتُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَّا اثْنَتَانِ فَلَا أُطِيقُهُمَا، الزَّكَاةُ فَوَاللهِ مَالِي إِلَّا عَشْرُ ذَوْدٍ هُنَّ رُسُلُ أَهْلِي وَحَمُولَتُهُمْ، وَأَمَّا الْجِهَادُ، فَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ وَلَّى فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ، فَأَخَافُ إِذَا حَضَرَنِي قِتَالٌ، خَشَعَتْ نَفْسِي، وَكَرِهْتُ الْمَوْتَ، فَقَبَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فحَرَّكَها ثُمَّ قَالَ: «لَا صَدَقَةَ، وَلَا جِهَادَ، تَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟» فَبَايَعْتُهُ عَلَيْهِنَّ كُلِّهِنَّ
ترجمہ

سیدنا ابن خصاصیہ سدوسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیعت کرنے آیا تو آپ ﷺ نے مجھ پر یہ شرط رکھی: ”تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اور پانچ نمازیں پڑھو، رمضان کے روزے رکھو، زکوٰۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دو باتیں میں نہیں کر سکتا، زکوٰۃ تو اللہ کی قسم! میرے پاس صرف دس اونٹ ہیں جو میرے گھر والوں کی سواری اور بوجھ اٹھانے کے کام آتے ہیں، اور رہا جہاد، تو لوگ کہتے ہیں کہ جو پیٹھ پھیر لے وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہو گیا، تو مجھے ڈر ہے کہ جب مجھے لڑائی کا سامنا ہو تو میرا دل کمزور پڑ جائے اور میں موت کو ناپسند کروں، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ پکڑا اور اسے ہلایا، پھر فرمایا: ”نہ صدقہ دو، نہ جہاد کرو، پھر جنت میں کیسے جاؤ گے؟“ تو میں نے ان سب باتوں پر آپ ﷺ سے بیعت کر لی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1222
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 44، حدیث 1233