المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بشير بن الخصاصية السدوسي وهو بشير بن معبد بن شراحيل بن سبع بن صبار سدوسي، وكان اسمه بالجاهلية زحم فسماه رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيرا باب: سیدنا بشیر بن خصاصیہ سدوسی رضی اللہ عنہ، اور وہ بشیر بن معبد بن شراحیل بن سبع بن صبار سدوسی ہیں، زمانہ جاہلیت میں ان کا نام زحم تھا، رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بشیر رکھا
حدیث نمبر: 1221
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، قَالَ: سَمِعْتُ لَيْلَى، امْرَأَةَ بَشِيرٍ قَالَتْ: أَخْبَرَنِي بَشِيرٌ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَصُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَا أُكَلِّمُ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَحَدًا، قَالَ: «لَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِلَّا فِي أَيَّامٍ هُوَ آخِرُهَا، وَأَمَّا لَا تُكَلِّمُ أَحَدًا فَلَعَمْرِي، لَأَنْ تَكَلَّمَ فتَأْمُرَ بِمَعْرُوفٍ، وَتَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَسْكُتَ»ترجمہ
لیلیٰ، بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی، بیان کرتی ہیں کہ بشیر رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: میں جمعے کے دن روزہ رکھتا ہوں اور اس دن کسی سے بات نہیں کرتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جمعے کا دن اکیلا روزہ مت رکھو، سوائے ان دنوں کے جن میں یہ آخری دن ہو، رہا یہ کہ کسی سے بات نہ کرو، تو میری جان کی قسم! اگر تم بات کرو اور نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، تو یہ خاموش رہنے سے بہتر ہے۔“