حدیث نمبر: 12176
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّكَ تَرَكْتَ فِينَا ضَغَائِنَ مُنْذُ صَنَعْتَ الَّذِي صَنَعْتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبْلُغُوا الْخَيْرَ حَتَّى يُحِبُّوكُمْ لِلَّهِ وَلِقَرَابَتِي، أَتَرْجُو سلهبُ شَفَاعَتِي حَيٌّ مِنْ مُرَادٍ، وَلَا يَرْجُوهَا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: جب سے آپ نے جو کچھ کیا وہ کیا ہے، آپ نے ہم میں کچھ رنجشیں چھوڑ دی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوگ بھلائی کو نہیں پہنچیں گے یہاں تک کہ تم سے اللہ کی خاطر اور میری قرابت کی وجہ سے محبت کریں۔ کیا مراد قبیلے کا سلہب (نامی گروہ) میری شفاعت کی امید رکھے، اور بنو عبدالمطلب اس کی امید نہ رکھیں؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12176
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 433، حدیث 12228