حدیث نمبر: 12177
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا أَبُو يَعْفُورٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو الضُّحَى، ثنا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَصْبَحْنَا يَوْمًا وَنِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِينَ، عِنْدَ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ أَهْلُهَا، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا هُوَ مُلِئَ مِنَ النَّاسِ، فَجَاءَ عُمَرُ فَصَعِدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي غَرْفَةٍ فَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقَالَ: أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنِّي آلَيْتُ» فَمَكَثَ إِلَى تِسْعٍ وَعِشْرِينَ ثُمَّ نَزَلَ إِلَى أَهْلِهِ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں مسجد کی طرف نکلا تو دیکھا وہ لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم ﷺ کے پاس چڑھ کر گئے جو ایک بالاخانے میں تھے، انہیں سلام کیا تو آپ ﷺ نے جواب نہ دیا۔ انہوں نے پوچھا: کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں نے ایلاء (قسم کھا کر دوری اختیار) کی ہے۔“ آپ ﷺ انتیس دن تک ٹھہرے رہے، پھر اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لے آئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12177
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 433، حدیث 12229