❮
❯
حدیث نمبر: 12138
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، ح، وَحَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ السِّمْسَارُ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: لأَحْفَظَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَصْنَعُ، فَجَاءَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَتَى نَاحِيَةَ الدَّارِ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ مَضْجَعَهُ فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ قَامَ فَأَتَى نَاحِيَةَ الدَّارِ، ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ إِهْرَاقَةَ الْمَاءِ وَقَدْ أَسْبِغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ " قَالَ: فَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَدَّهَا مِنْ خَلْفِي فَأَقَامَنِي، عَنْ يَمِينِهِ وَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِثَلَاثٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَلْبِي، وَنُورًا فِي سَمْعِي، وَنُورًا فِي بَصَرِي، وَنُورًا فِي شَعْرِي، وَنُورًا فِي بَشَرِي، وَنُورًا فِي لَحْمِي، وَنُورًا فِي دَمِي، وَنُورًا مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَنُورًا مِنْ خَلْفِي، وَنُورًا عَنْ يَمِينِي، وَنُورًا عَنْ شِمَالِي، وَنُورًا مِنْ تَحْتِي، وَنُورًا مِنْ فَوْقِي، اللهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا، جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ تھیں، کے ہاں رات گزاری، اور (دل میں) کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی نماز ضرور یاد رکھوں گا کہ آپ ﷺ کیسے کرتے ہیں۔ آپ ﷺ مسجد سے تشریف لائے، گھر کے ایک کونے میں جا کر قضائے حاجت کی، پھر مشکیزے کے پاس آئے، اس کا بندھن کھولا اور اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، پھر اپنے بستر پر لیٹ گئے اور جب تک اللہ نے چاہا لیٹے رہے، پھر اٹھ کر گھر کے کونے میں گئے، پھر مشکیزے کے پاس آئے، اس کا بندھن کھولا، پھر دو وضوؤں کے درمیان (درمیانہ) وضو کیا، زیادہ پانی نہیں بہایا اور وضو پورا کیا، پھر مسجد میں آئے۔ کہتے ہیں: میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے آپ ﷺ نے کیا تھا، پھر میں آیا اور آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر میرے پیچھے سے کھینچا اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا، اور آٹھ رکعت نماز پڑھی اور تین رکعت وتر پڑھا، پھر دو رکعت اور پڑھی، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا کر، میرے کان میں نور پیدا کر، میری آنکھ میں نور پیدا کر، میرے بالوں میں نور پیدا کر، میری جلد میں نور پیدا کر، میرے گوشت میں نور پیدا کر، میرے خون میں نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر، میرے پیچھے نور پیدا کر، میری دائیں جانب نور پیدا کر، میری بائیں جانب نور پیدا کر، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے اوپر نور پیدا کر۔ اے اللہ! مجھے نور عطا فرما، میرے لیے نور بنا دے، اور میرے لیے نور کو عظیم بنا دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12138
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 419، حدیث 12190