المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كريب عن ابن عباس باب: کریب کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ " فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَتَى الْحَاجَةَ، ثُمَّ جَاءَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ وُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي قَالَ: وتَخَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أُبَيِّتَهُ، يَعْنِي أُراقِبَهُ، ثُمَّ قُمْتُ فَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِمَا يَلِي أُذُنِي حَتَّى أَدَارَنِي فَكُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَتَتَامَّتْ صَلَاتُهُ إِلَى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں اپنی خالہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری۔ نبی کریم ﷺ رات کو اٹھے، حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آ کر اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، پھر رات کی نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ پھر مشکیزے کے پاس جا کر ہلکا مگر مکمل وضو کیا، نہ زیادہ پانی استعمال کیا اور نہ کمی کی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اور میں نے یہ ناپسند کرتے ہوئے کہ آپ ﷺ یہ محسوس کریں کہ میں رات بھر آپ ﷺ کی نگرانی کرتا رہا ہوں (یعنی مشاہدہ کر رہا تھا)، (پہلے سے بیدار ہونے کا انداز اختیار کیا)۔ پھر میں اٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے آپ ﷺ نے کیا، اور آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ ﷺ نے میرا کان پکڑ کر مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ آپ ﷺ کی نماز تیرہ رکعت پر مکمل ہوئی، ان میں فجر کی دو رکعتیں بھی شامل تھیں۔ پھر آپ ﷺ لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور نماز کی اطلاع دی، تو آپ ﷺ اٹھے اور بغیر وضو کیے نماز پڑھائی۔