المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كريب عن ابن عباس باب: کریب کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12139
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ الطَّائِيُّ، عَنْ كُرَيْبٍ، فَلَقِيتُ كُرَيْبًا فَحَدَّثَنِي، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَرَمَقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ يُصَلِّي، فَقَامَ فَبَالَ، ثُمَّ أَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا وَصَبَّ فِي قَصْعَةٍ أَوْ جَفْنَةٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، فَقَامَ يُصَلِّي فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَكَامَلَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ وَكَانَ يُعْرَفُ نَوْمُهُ بِنَفْخِهِ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَكَانَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ، أَوْ فِي دُعَائِهِ: «اللهُمَّ اجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي قَلْبِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَعَنْ أَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے رات کو تیرہ رکعت نماز پڑھی، پھر سو گئے، اور آپ ﷺ کی نیند خراٹوں سے پہچانی جاتی تھی، تو آپ ﷺ خراٹے لیتے رہے، پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ اپنی نماز میں، یا اپنی دعا میں، یہ فرماتے تھے: ”اے اللہ! میرے کان میں نور پیدا کر، میری آنکھ میں نور پیدا کر، میرے دل میں نور پیدا کر، میری دائیں جانب نور پیدا کر، میری بائیں جانب نور پیدا کر، میرے سامنے نور پیدا کر، میرے پیچھے نور پیدا کر، میرے اوپر نور پیدا کر، میرے نیچے نور پیدا کر، اور میرے لیے نور پیدا کر دے۔“